جمعرات، 4 مارچ، 2021

لحظہ لحظہ نشہ آور لگے اُسکی آواز

غزل (محمد اسامہ شاہد)

 یُوں تو کوئل بھی ہو گونگی جو سُنے اسکی آواز

مِثلِ شحنائی مِرے دل میں بجے اسکی آواز


عقل کھوتی ہے جب محوِ سُخن گوئی میں

گوش کو چُھو کے گزر جاتی ہے اُسکی آواز


کر لے محسوس کوئی لذّتِ شیریں لہجہ

لحظہ لحظہ نشہ آور لگے اُسکی آواز


میرے کانوں نے تھا نوش کِیا جامِ شہد

وقتِ گفتار جو پہنچی مجھے اُسکی آواز


شورِ محشر جو اُٹھائے مِرے دل کی وحشت

اِک عجب نیند سُلا دیتی ہے اُسکی آواز


دل میں 'شاہد' بھی یہ آس لیے بیٹھا ہے

چُھپ کے سُن لے کسی طرح سے اُسکی آواز

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

if you have any doubts,please let me know

Featured Post

مجھ پہ جو بیتی : اردو کی آپ بیتی

  اردو کی آپ بیتی تمہید چار حرفوں سے میرا نام وجود میں آتا ہے۔ لشکری چھاؤنی میرا جنم بھوم [1] ہے۔ دوسروں کو قدامت پہ ناز ہے اور مجھے جِدَّ...