جمعرات، 25 فروری، 2021

موقع ملا تو اس نے بھی کیا کیا نہیں کیا

موقع ملا تو اس نے بھی کیا کیا نہیں کیا


رسمِ وفا کو ہم نے بھی رسوا نہیں کیا

ہر اک ستم کو سہہ لیا شکوہ نہیں کیا


کہتے ہیں اس جہان میں بیمارِ عشق کو

اب تک کسی طبیب نے اچھا نہیں کیا


سمجھا گیا تھا جس کو محلے میں پارسا

موقع ملا تو اس نے بھی کیا کیا نہیں کیا


 پھر یاد آ رہی ہے وہی ملتجی نگاہ

اور اشک جس کا راز میں سمجھا نہیں کیا


واعظ کو میکدے میں تھا اک بار لے گیا

پھر اس کے بعد مجھ سے وہ الجھا نہیں کیا


ہم مستقل مزاج ہیں بس ایک بات میں

وہ یہ کہ جو کیا وہ دوبارہ نہیں کیا


بارش کا عذر کر کے بھرم رکھ بھی سکتا تھا

افسوس اس نے کوئی بہانہ نہیں کیا


امیدِ وصل بھی ہے مگر کشمکش ہے شان

اس نے کہا کہ آؤں گا وعدہ نہیں کیا


(ذیشان لاشاری)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

if you have any doubts,please let me know

Featured Post

مجھ پہ جو بیتی : اردو کی آپ بیتی

  اردو کی آپ بیتی تمہید چار حرفوں سے میرا نام وجود میں آتا ہے۔ لشکری چھاؤنی میرا جنم بھوم [1] ہے۔ دوسروں کو قدامت پہ ناز ہے اور مجھے جِدَّ...