![]() |
اک حسیں آبشار یہ آنکھیں |
غزل (محمد اسامہ شاہد)
ہیں مِری غمگسار یہ آنکھیں
ہر گھڑی بیقرار یہ آنکھیں
مستی میں شاد شاد رہتی ہیں
ہیں مگر شرمسار یہ آنکھیں
ہونٹ سِل جائیں یُوں اچانک سے
بولیں سب حالِ زار، یہ آنکھیں
غم کے موسم میں ہو سی جاتی ہیں
اک حسیں آبشار یہ آنکھیں
سجدہ کرتا ہوں اُس مصور کو
جس کا ہیں شاہکار یہ آنکھیں
حال 'شاہد' بتا نہیں سکتا
تکتا ہے بار بار یہ آنکھیں
Wah wah. Ye waqia parh ke ankhon main ansu a hie. Ye he kis ke bara main.
جواب دیںحذف کریں