![]() |
| جلتا ہوا دل |
![]() |
| جلتا ہوا دل |
وعدہ وفا کا اس سے نبھایا نہیں گیا
یہ بار اس کلی سے اٹھایا نہیں گیا
لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ ہم ہی نہ جا سکے
گو بات ہے یہی کہ بلایا نہیں گیا
دیکھا انھیں وہ خوش تھے بہت اپنی بزم میں
تو ہم سے دل کا حال سنایا نہیں گیا
جوشِ بہار دیکھ کے اتنی خوشی ہوئی
نغمہ بھی عندلیب سے گایا نہیں گیا
عاشق وہ کونسا ہے کہ رسوا نہیں ہوا
وہ دل ہے کونسا کہ جلایا نہیں گیا
جو آیا اس گلی میں وہ بس خوار ہی ہوا
مسند پہ یاں کسی کو بٹھایا نہیں گیا
کوشش تو خوب کی تھی مگر رائیگاں گئی
چہرہ وہ شان ہم سے بھلایا نہیں گیا
(ذیشان لاشاری )
اردو کی آپ بیتی تمہید چار حرفوں سے میرا نام وجود میں آتا ہے۔ لشکری چھاؤنی میرا جنم بھوم [1] ہے۔ دوسروں کو قدامت پہ ناز ہے اور مجھے جِدَّ...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
if you have any doubts,please let me know