غزل (محمد اسامہ شاہد)
آکر ہمارے گھر میں پُکارا نہ کیجئے
سب پاس ہوں تو کوئی اشارہ نہ کیجئے
ہیں اور بھی طریق بُلانے کے واسطے
لینا ہمارا نام، خدارا نہ کیجئے
جادو تو ذاتِ زُلف میں ہوتا نہیں مگر
اُنگلی سے اس کو آپ سنوارا نہ کیجئے
'اپنا' زبان پر اگر آتا نہیں تو پھر
ہر بات پر یہ 'میرا، تمہارا' نہ کیجئے
'شاہد' حصولِ زندگی پوچھے اگر کوئی
کہنا، کسی سے پیار دوبارہ نہ کیجئے
اتوار، 21 فروری، 2021
ہیں اور بھی طریق بُلانے کے واسطے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Featured Post
مجھ پہ جو بیتی : اردو کی آپ بیتی
اردو کی آپ بیتی تمہید چار حرفوں سے میرا نام وجود میں آتا ہے۔ لشکری چھاؤنی میرا جنم بھوم [1] ہے۔ دوسروں کو قدامت پہ ناز ہے اور مجھے جِدَّ...
-
مارا قتیل نے اُنہیں کس بے دلی کے ساتھ آواز آ رہی ہے کسی کی ہنسی کی آج راہیں چمک رہی ہیں کسی کی گلی کی آج چکرا رہے ہیں طیش میں آکر جو مہر ...
-
سامنے جب چہرہ دلدار کا ہو حسن کردار کا ہو، گفتار کا ہو بس یہی روپ میرے یار کا ہو جو دل کو بھائے وہی اچھا ہمیں چاہے اس سے لاکھ گلہ اغیار ک...
-
’’جو کھڑکی سے جھانکا تو میری دنیا بدل گئی‘‘ والدین میری پڑھائی کی خاطر قربانیاں دیتے دیتے چل بسے زندگی بننے سنورنے کے لئے کسی وعظ و پندکی مح...
ماشااللہ بہت خوب شاعر صاحب
جواب دیںحذف کریں