غزل (محمد اسامہ شاہد )
نہ جَلا جو سوزشِ اَشک سے، اُسے دل جلوں کی خبر کہاں
دلِ نامُراد سنبھل کے چل، تجھے راستوں کی خبر کہاں
مِرے دوش پر کوئی ہاتھ رکھ کے مجھے بھی دے ذرا حوصلہ
میں شکستہ ناؤ کے بیچ ہوں، مجھے ساحلوں کی خبر کہاں
اُسے کیا بتائے گا ہم سفر، جسے راستوں کی سمجھ نہ ہو
رہِ خاردار ہے سامنے، اُسے منزلوں کی خبر کہاں
تِرے غمزے، لہجے، نگاہ نے تو ستم کدہ ہی بنا دیا
تجھے اِس ادا کی تو فکر ہے، وہ ستمزدوں کی خبر کہاں
مُجھے اُس نے چُپ کے جواب میں، وہیں جاں دہی سے ڈرا دیا
وہ ہے طفلِ مکتبِ زندگی، اُسے عاشقوں کی خبر کہاں
نہ ہوئے تھے ہم یہاں اس قدر غمِ یار سے کبھی اشکبار
وہ جو پلکیں ابرِ رواں سی تھیں، اُنہیں بادلوں کی خبر کہاں
جو نہ پی سکے یہاں رات بھر، اُسے یاں پہ رہنا حرام ہے
یہاں رِند ہیں سبھی، شیخ جی! اِنہیں مسجدوں کی خبر کہاں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
if you have any doubts,please let me know