غزل(محمد اسامہ شاہد)
سیرِ گلشن کیلئے جب وہ روانہ ہو گیا
تب سے لالہ زار کا ہر گُل دیوانہ ہو گیا
یاد پڑتا ہے کہ حائل اُسکے ذکرِ حُسن میں
آفتاب و ماہ کا وہ شاخسانہ ہو گیا
با ادب تسلیم کرنا سر جُھکا کر وہ ہمیں
جان لیوا زُلف کا چہرے پہ گرنا ہو گیا
خط میں کچھ تفصیل سے حالت عیاں کردوں، کہیں
پڑھ کے وہ یہ نہ کہے، "لو پھر بہانہ ہو گیا
کوئی ہم کو بھی بتائے بُت میں گر تاثیر ہے
ہم کو یونہی سر پٹختے اِک زمانہ ہو گیا
تیرِ مِژگاں نیم کش لے کر نکلنا صبحدم
دل بیچارہ طاقِ اَبرُو کا نشانہ ہو گیا
حُسن تو پہلے سے اُس کا مائلِ پرواز تھا
طُرفہ اِس پہ مہ جبیں کا مُسکرانا ہو گیا
مومِ کافوری پہ وہ داغِ حنائی دیکھ کر
کتنے عاشق مر گئے جب رخستانہ ہو گیا
دنیا بھی تو عارضی ہے، پھر برائے آرزو
کیوں بُتِ کافر سے اپنا دل لگانا ہو گیا؟
ہم سخندانی بیاں کرنے لگے اپنی تو وہ
بے خودی میں کہہ اُٹھے "شاہد سیانا ہو گیا
واہ واہ بہت خوب۔ 👌
جواب دیںحذف کریںماشااللہ بہت خوب۔ کوشش جاری رھیں
جواب دیںحذف کریں